Sabaz Elaichi – Green Cardamom
ORIGIN STORY
Known as the “Queen of Spices,” Green Cardamom originated in the lush, evergreen forests of the Western Ghats in Southern India. It has been traded for over a thousand years, highly prized by ancient Greeks, Romans, and Arabs for its intense aroma and medicinal value. Historically, it was so valuable that it was often used as a form of currency and remains one of the world’s most expensive spices by weight.
تاریخی پس منظر
سبز الائچی، جسے “مصالحوں کی ملکہ” کہا جاتا ہے، اس کا آغاز جنوبی بھارت کے مغربی گھاٹوں کے سرسبز جنگلات سے ہوا۔ ایک ہزار سال سے زائد عرصے سے اس کی تجارت کی جا رہی ہے، اور قدیم یونانی، رومی اور عرب اس کی تیز خوشبو اور طبی اہمیت کی وجہ سے اسے بہت پسند کرتے تھے۔ تاریخی طور پر یہ اتنی قیمتی تھی کہ اسے اکثر کرنسی کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا اور آج بھی یہ وزن کے لحاظ سے دنیا کے مہنگے ترین مصالحوں میں سے ایک ہے۔
USES
Sabaz Elaichi is a versatile spice used in both sweet and savory dishes. It is a key ingredient in traditional tea (Chai), desserts like Kheer and Halwa, and aromatic main courses like Biryani and Qorma. Many people also chew on a whole pod after meals as a natural digestive and mouth freshener. In aromatherapy, its seeds are used to create essential oils for stress relief.
استعمالات
سبز الائچی ایک ہمہ گیر مصالحہ ہے جو میٹھے اور نمکین دونوں قسم کے کھانوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ روایتی چائے، میٹھا جیسے کھیر اور حلوہ، اور خوشبودار پکوانوں جیسے بریانی اور قورمہ کا لازمی جزو ہے۔ بہت سے لوگ کھانے کے بعد ہاضمے اور منہ کی تازگی کے لیے اسے ثابت چباتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اس کے بیجوں سے حاصل ہونے والا تیل ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے خوشبو تھراپی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔




